آپ کو یہ سن کر خاصا تعجب ہوگا کہ انٹرپول دنیا کی واحد
پولیس فورس ہے جس میں کوئی
پولیس آفیسر نہیں ہے بلکہ صرف آفس سٹاف ہے جو ’انفارمیشن شیئرنگ‘ کا کام کرتا ہے۔ لیکن انٹرپول کے متعلق جاننا ہمارے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے جس کے ممبرز کی تعداد 190سے زیادہ ہے۔ اور تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ’انٹرلنک‘ ہیں۔
تعارف:
انٹرپول، دو الفاظ ’انٹرنیشنل‘ اور ’پولیس‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔ جسے International Criminal Police Organization (ICPO) کہتے ہیں۔ انٹرپول خالصتاََ ایک غیرسیاسی، غیرمذہبی اور غیر فوجی ادارہ ہے۔ اس کے ممبر ممالک کی تعداد 190ہے جبکہ نان ممبرز ممالک میں زیادہ تر سلطانی طرز حکومت اور کم آبادی رکھنے والے ممالک ہیں جیسے شمالی کوریا، پالاﺅ، سولومن آئس لینڈ، تووالو، کربتی وغیرہ۔ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے بھوٹان، تاجکستان اور تائیوان حال ہی میں انٹرپول کے ممبر بنے ہیں۔ انٹرپول کا ہیڈ کوارٹر فرانس کے شہر پیرس میں ہے۔
انٹرپول کا کام دنیا بھر میں جرائم پیشہ افراد کے بارے میں سراغ لگاناہے، چونکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی ملک کی پولیس دوسرے ملک میں کارروائی کرنے کا اختیار نہیں رکھتی، اس لیے پوری دنیا میں ایک ایسا پولیس کا ادارہ قائم کیا گیا جو ہر ملک میں مشترکہ طور پر کارروائی کر سکے۔ انٹرپول کا ہر ملک میں اپنا ایک سب آفس ہے جس میں اس کا نمائندہ(بیورو) تعینات ہوتا ہے۔ اس کے سیکرٹری جنرل رونلڈ نوبل، صدر سنگاپور کے کھو بون ہوئی ہیں۔
انٹرپول انسانی جذبے کے تحت پوری دنیا میں جرائم کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اور یہ اس کے اولین مقاصد میں سے ایک ہے۔ انٹرپول پوری دنیا میں جرائم پیشہ افراد کا پیچھا کرتی اور انہیں متعلقہ ملک کے حوالے کردیتی ہے۔ انٹرپول پر جن جرائم کا خاتمہ کرنے کی ذمہ داری عائد ہے ان میں دہشت گردی،منظم جرائم، ماحولیاتی جرائم، انسانی جرائم(انسانی سمگلنگ، قتل وغیرہ)، جنگی جرائم، کاپی رائےٹ، غیرقانونی دوائیں بنانا، منشیات کا پھیلاﺅ، ہتھیاروں کی سمگلنگ، منی لانڈرنگ، بچوں پرجنسی تشدد، فراڈ، آئی ٹی کرائم، کرپشن اور پراپرٹی کرائم وغیرہ شامل ہیں۔ انٹرپول نے 2008ءمیں 718افراد کی گرفتاری کے لیے 3,126ریڈ نوٹس جاری کیے۔ 2009ءاور 2010ءمیں یہ تعداد دگناہوگئی اوراس طرح گزشتہ چار سالوں میں انٹرپول نے پندرہ ہزار نوٹس جاری کیے۔ انٹرنیشنل پولیس یعنی انٹر پول نے اس وقت پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کے شہریوں کے خلاف پندرہ ہزار نوٹس جاری کر رکھے ہیں اور ان پر عمل ہونا باقی ہے۔
تاریخ:
بین الاقوامی پولیس کا ادارہ قائم کرنے کا خیال سب سے پہلے 1914ءمیں آیا جب موناکو میں 14ممالک کے پولیس آفیسر، قانون دان اور مجسٹریٹس نے مل کر مجرموں کو پکڑنے کا طریقہ کار، ان کی شناخت اور دیگر امور پر بات چیت کرنے کے بعد پہلی انٹرنیشنل کریمنل پولیس کانگریس قائم کی گئی، تاہم پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے اس میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہوسکی۔ 1923ءمیں انٹرنیشنل پولیس کے حوالے سے دوسری کانفرنس ویانا میں ہوئی جس میں انٹرنیشنل کریمنل پولیس (ICP) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 1923ءمیں اس تنظیم کے رکن ممالک میں امریکا، پولینڈ، آسٹریا، بلجیم، چائنہ، مصر، فرانس، جرمنی، یونان، ہنگری، اٹلی، ہالینڈ، رومانیہ، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور یوگوسلاویہ شامل تھے۔ 1938ءمیں ICP پر جرمن نازی قابض ہوگئے اور 1942ئمیں اس کا ہیڈ کوارٹر جرمنی کے شہر برلن منتقل کر دیا گیا۔ تاریخ میں ہے کہ 1938ءتا 1945ءانٹرپول پر جرمنوں کا ہی قبضہ رہا۔ دوسری جنگ عظیم اور نازیوں کی شکست کے بعد اس کا ہیڈ کوارٹر فرانس منتقل کردیا گیا۔ 1949ءمیں اقوام متحدہ نے انٹرپول کو غیر سرکاری تنظیم قرار دیا اور اقوام متحدہ کے تمام ممالک کو انٹرپول کا ممبر بننے کے لیے کہا۔ 1956ءمیں ICPکا نام بدل کر انٹرپول رکھ دیا گیا اور انٹرپول کو اٹانومس باڈی بنا دیا گیا جسے تمام ممبر زممالک کی مالی معاونت سے چلانے کی حکمت عملی طے پائی گئی۔ 1965ءمیں جنرل اسمبلی نے انٹرپول کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اہم ذمہ داریاں دیں۔ 1971ءمیں اقوام متحدہ نے انٹرپول کو بین الحکومتی ادارہ قرار دیا۔
اس کے بعد کے دور میں انٹرپول نے پوری دنیا سے جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا، اور کمپیوٹر کی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا ’ڈیٹابیس سنٹر‘ قائم کیا۔
2005ءمیں پہلی بار اقوام متحدہ اور انٹرپول نے القاعدہ اور طالبان کے کئی افراد کی گرفتاری کے لیے سپیشل نوٹسز جاری کیے۔
مختلف رنگوں کے نوٹس اور ان کا مقصد:
انٹرپول چھ مختلف نوعیت کے نوٹس جاری کرتا۔ جس میں ریڈ، بلیو، گرین، یلو، بلیک اور اورنج نوٹس شامل ہیں۔
ریڈ نوٹس
سرخ یا ریڈ نوٹس کسی بھی مطلوبہ شخص کی گرفتاری یا عبوری گرفتاری کرنے اور انہیں متعلقہ ملک کے حوالے کرنے کے بارے میں ہوتا ہے۔
بلیو نوٹس
جبکہ بلیویعنی نیلا نوٹس کسی بھی جرائم پیشہ شخص کے متعلق اضافی معلومات حاصل کرنے کے لیے ہوتاہے۔
گرین نوٹس
گرین یعنی سبز نوٹس کسی بھی جرائم پیشہ فرد کے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے, جو کسی اور ملک میں بھی جرم کرسکتا ہے۔
یلونوٹس
پیلا یا یلو نوٹس انٹر پول گمشدہ افراد کی شناخت بالخصوص بچوں کے متعلق جاری کرتا ہے۔
بلیک نوٹس
سیاہ یعنی بلیک نوٹس نامعلوم اداروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
اورنج نوٹس
اورنج نوٹس پولیس سمیت سرکاری اور عالمی اداروں کو لاحق خطرات کے بارے میں مطلع کرنے کے بارے میں جاری کیا جاتا ہے۔
انٹرپول کیسے کام کرتی ہے؟
انٹرپول کے ایک اہلکارکا کہنا ہے کہ
”انٹرپول کسی رکن ملک سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ وہ جس شخص کے خلاف ریڈ نوٹس وارنٹ گرفتاری جاری کیا گیا ہے، اس کو گرفتار بھی کرے بلکہ مطلوب شخص کو اس وقت تک بے گناہ سمجھا جانا چاہیے جب تک وہ قصوروار ثابت نہیں ہو جاتا“
انٹرپول دیگر ڈسپلن اداروں سے قدرے مختلف ادارہ ہے، اس کی پوری دنیا میں اپنی کوئی جیل نہیں ہے۔ اس کے کام کرنے کا طریقہ کچھ اس طرح سے ہے کہ انٹرپول ممبرز ممالک کے سیکیورٹی اداروں سے رابطے میں رہتا ہے اور معلومات کا تبادلہ کرتا رہتا ہے۔ چونکہ تمام ممالک کا کلچر، رہن سہن، زبان اور حکومتی سٹرکچر مختلف ہوتا ہے اس لیے انٹرپول کو معلومات کے تبادلہ کرنے میں خاصی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بلکہ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جس ملک کے لیے کسی مجرم کو پکڑا جا رہا ہے وہ جرم دوسرے ملک یا مذہب میں جائز ہوتا ہے۔ اگر امریکی FBI اورامیگریشن کو اٹلی میں ایک دہشت گرد مطلوب ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اٹلی پولیس(Polizia di Stato) میں کس سے رابطہ کرنا ہے۔ تو اس سلسلے میں FBI اور امیگریشن حکام ”انٹرپول نیشنل بیورو ان اٹلی“ سے رابطہ کریں گے۔ انٹرپول نیشنل بیورو ان اٹلی صرف معلومات کے تبادلے کا کام کرے گا مثلاََ امریکا اور اٹلی کی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رابطہ کار(Liaison) کے طور پر کام کرے گا۔
انٹرپول کی سب سے بڑی خاصیت اس کے پاس دنیا بھر کے جرائم پیشہ افراد سے متعلق مواد کا ہونا ہے۔ یہ اپنے ’ڈیٹابیس‘ کی بنا پر دنیا میں موجود کسی بھی شخص کی آسانی سے شناخت کر سکتا ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ انٹرپول دنیا کی واحد آرگنائزیشن ہے جس کے لیے بارڈر کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ انٹرپول دنیا بھر میں ہونے والے جرائم اور مجرم کا آسانی سے سراغ لگانے کی اہلیت رکھتا ہے اسے یہ علم ہوتا ہے کہ کس ملک میں کس جرم کی شرح زیادہ ہے اور کہاں سب سے زیادہ منشیات یا انسانی سمگلنگ وغیرہ کا کام ہوتا ہے۔
انٹرپول کے ڈیٹا بیس میں فنگر پرنٹس، چہرے کی تصاویر (Mugshots)، مطلوب افراد، ڈی این اے کے نمونے اور سفری دستاویزات کا ضخیم ذخیرہ موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف سفری دستاویزات کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہے۔
تمام ممبرز ممالک کی I-24/7کمیونی کیشن نیٹ ورک کے ذریعے ایک دوسرے سے انٹرپول کے ذریعے رسائی ہوتی ہے۔ اس مخصوص نیٹ ورک کو ہر ملک میں موجود انٹرپول بیورو آفس کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ ممالک نے تو اس ڈیٹا بیس کی رسائی اپنے ائیر پورٹس اور بارڈر جیسی اہم جگہوںتک حاصل کرلی ہے۔ ممبر زممالک I-24/7سسٹم کے ذریعے ایک دوسرے ملک کے ڈیٹا بیس تک بھی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
کسی بھی بڑے حادثے، دہشت گردی، بڑے پیمانے پر قتل و غارت یا کسی لیڈر کے قتل کی صورت میں انٹرپول ’Incident response team‘ کو متاثرہ ملک بھیج سکتی ہے۔ یہ ٹیم متاثرہ ملک کے سکیورٹی اداروں کو اپنی ماہرانہ رائے دیتی ہے، اپنے ڈیٹابیس تک مکمل رسائی فراہم کرتی ہے اور شک کی بنیاد پر کسی کی شناخت کرتی ہے۔ 2005ءمیں ایسی 12ٹیموں نے دنیا بھر میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ انٹرپول نے چونکہ جائے حادثہ پر فوراََ پہنچنا ہوتا ہے اس لیے انٹرپول کے اہلکاروں کے لیے دنیا بھر میں ایک ہی پاسپورٹ بنایا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ملک میں داخل ہونے کے لیے انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انٹرپول اور پاکستان:
اسلام آباد انٹرپول نیشنل سنٹرل بیورو (NCB) فار پاکستان، ایف آئی اے کا ہی حصہ ہے۔ یہ ادارہ ملک کے چاروں صوبوں میں اپنی برانچز رکھتا ہے مثلاََ جہاں ایف آئی اے کا صوبائی ہیڈکوارٹر ہوگا وہیں ساتھ انٹرپول کا آفس بھی ہوگا، اسلام آباد انٹرپول آفس میں 15کے قریب آفیسرز ہیں جو پانچ سیکشنز کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان سیکشنز میں یورپ اور امریکا، مڈل ایسٹ، ایشیااور افریقہ، منشیات اور منظم جرائم، جنرل ٹریننگ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان 9/11کے بعد عالمی دہشت گردی کا شکار رہا اور افغان جنگ کی وجہ سے خطے میں خاصی اہمیت اختیار کر گیا، اس تناظر میں گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان کاانٹرپول سے رابطہ بھی رہا اور انٹرپول نے پاکستان میں جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹابیس بنانے میں بھی خصوصی مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کی۔ انٹرپول نے ایف آئی اے کے تمام مراکز کو اپنے ڈیٹا بیس تک رسائی دی اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادکار بڑھانے کے لےے تربیت میں معاونت کی تجویز دی گئی۔
2009ءکے دوران انٹرپول کی طرف سے پاکستان کو 8ہزار 581 پیغامات موصول ہوئے جبکہ پاکستان کی طرف سے انٹرپول کو سات ہزار 707 پیغامات ارسال کےے گئے۔ انٹرپول نے ایف آئی اے کے 38مراکز کی استعدادکار بڑھانے کے لےے 20لاکھ یورو بھی دئیے۔ کچھ عرصہ قبل ایف آئی اے نے انٹر پول اور پاکستان کو مطلوب انسانی سمگلر فیصل اعجاز کو گرفتار کیا۔ ملزم فیصل کو گجرات سے پکڑا گیا ملزم سینکڑوں افراد کو غیر قانونی طور پر یونان اور ترکی بھجوانے میں ملوث تھا۔ ملزم نے ان ملکوں میں سیف ہاو ¿س بنا رکھے تھے جہاں پاکستان سے لے جائے گئے افراد کو ٹھہرایا جاتا تھا۔ ملزم ناروے کی حکو مت کو بھی انسانی سمگلنگ کے مقدمات میں مطلوب ہے۔
کیا انٹرپول سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کر سکتی ہے؟
پرویز مشرف اگست 2008ءسے لندن اور دبئی میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ انتخابات میں شرکت کے لیے پاکستان واپس جانا چاہتے ہیں، تاہم موجودہ حکومت کے اس انتباہ کے بعد کہ ا ±نہیں پاکستان پہنچنے پر گرفتار کر لیا جائے گا، انہوں نے وطن واپسی کے منصوبوں کو غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر رکھا ہے۔ پاکستانی عدالتیں بلوچ رہنما اکبر بگٹی کی 2006ءمیں ہلاکت اور 2007 ءمیں بے نظیر بھٹو کے قتل کے سلسلے میں پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہیں۔ سابق وزیر اور موجودہ مشیر داخلہ رحمان ملک کا موقف ہے کہ پرویز مشرف نے نہ صرف بے نظیر بھٹو کو کافی سکیورٹی مہیا نہیں کی تھی بلکہ اکتوبر 2007ءمیں ا ±ن کی وطن واپسی سے پہلے ا ±نہیں ا ±س وقت ٹیلی فون پر دھمکیاں بھی دی تھیں، جب وہ ابھی واشنگٹن میں تھیں۔
رحمان ملک نے شاید انٹرپول کی کارروائی کا طریقہ کار نہیں پڑھا ہوا یا انہوں نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی ورنہ وہ پوری تیاری کے ساتھ اپنا کیس انٹرپول کے سامنے رکھتے اور انٹرپول کے قوانین میں آرٹیکل 3 کے مطابق انٹرپول کسی
سیاسی، نسلی، مذہبی، فوجی قسم کے مقدمات میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکتی۔
✍ Mind Ability ✍

Post a Comment