اللہ پاک بہتر جانتے ہیں کہ ہمارے حق میں کیا بہتر ہے


پرندوں کو دانا ڈالو تو وہ شور مچا کے سب کو بلاتے ہیں۔
اور پھر سب مل کر کھاتے ہیں۔ ان کو زیادہ کا حرص نہیں ہوتا، وہ اپنا حصہ کھاتے ہیں لڑتے نہیں، جتنا ضرورت ہو کھاتے ہیں اور اڑ جاتے ہیں......ان کو پتہ ہے رب نے جو ان کے لئے لکھا ہے وہ ان کو اس تک پہنچا بھی دے گا
اگلے دن پھر اپنے حصے کا تلاش کرتے ہیں۔ ان کو پتہ ہوتا ہے رب آج بھی جو ہمارے حصے میں لکھا ہے دے گا۔
اگر انسان کی بات کی جائے تو ہم انسانوں کا بس چلے تو دوسروں کی ساری خوشیاں اپنی نظروں سے ہی کھا جائیں۔۔مل کر بانٹ کر کھانے سے انسانوں کو لگتا ہےکہ ان کا حصہ کم ہو جائے گا۔
ہم اپنے حصےکو چھوڑ کر دوسروں کے حصّے پر زیادہ نظر رکھتے ہیں۔ ہم دوسروں کو خوش ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔
ہمیں دوسروں کی چیزیں زیادہ اٹریکٹ کرتی ہیں۔
ہمیں لگتا ہے ہم اللّٰہ سے زیادہ اچھا اپنے لیے منتخب کر سکتے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ رب کی دی چیز اچھی نہیں لگتی اپنی پسند زیادہ اچھی لگتی ہے۔ 
ہمیں لگتا ہم رب کے فیصلے سے اچھا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
اسی لئے ہماری زندگیاں ہمارے اپنے ہاتھوں ہی تباہ ہوجاتیں ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡـًٔـا وَّهُوَ خَيۡرٌ لَّـکُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تُحِبُّوۡا شَيۡـًٔـا وَّهُوَ شَرٌّ لَّـكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿﴾
مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو۔ اور ان باتوں کو خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ﴿﴾

جب انسان دوسرے کی چیز پر زیادہ نظر رکھتا ہے تو پہلے وہ ناشکری کرتا ہے،پھر حسد اور اس کے بعد حرام حلال کی تمیز بھول جاتا ہے۔
جو ہمارا ہے پاتال سے بھی نکال کر ہمیں دے دیا جائے گا۔
اور جو نہیں ہے بھلے جتنی کوشش کر لو پا بھی لو ہضم نہیں ہو گا۔
واپس لے لیا جائے گا۔
اسلئے اللّٰہ کے دیے پر راضی رہیں آپکا اپنا ہے ہی کیا؟
جو ہے وہ بھی رب کا ہے۔۔شکر کریں رب کی عطا کردہ نعمتوں کا،کیونکہ جو آج آپ کے پاس ہے وہ کسی اور کا خواب ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔۔
لَٮِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ‌ ﴿﴾
اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا! اللہ ہمیں اپنے شکر گذار بندوں میں شا مل کر ئیں آمین یا رب العا لمین۔

Post a Comment

Previous Post Next Post